ہائی بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟ اقسام، میکینزم اور حفاظتی تدابیر

ڈاکٹراشفاق الرحمٰن

اسسٹنٹ پروفیسر پلمونالوجی

ہائی بلڈ پریشر (ہائپرٹینشن) ایک پیچیدہ طبی حالت ہے جس کا میکینزم کئی عوامل پر منحصر ہے۔ اسے بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1. بنیادی (Primary/Essential) ہائی بلڈ پریشر (90-95% کیسز)

اس کی قطعی وجہ معلوم نہیں، لیکن یہ جینیات، ماحول اور جسمانی میکینزم کے پیچیدہ تعامل سے پیدا ہوتا ہے۔ اس میں شامل اہم میکینزم:

  • آرٹیریل سختی (Arterial Stiffness): عمر بڑھنے یا بیماری (جیسے atherosclerosis) کی وجہ سے شریانیں سخت اور کم لچکدار ہو جاتی ہیں، جس سے دباؤ بڑھتا ہے۔
  • رینن-اینجیوٹینسن-ایلسڈوسٹرون سسٹم (RAAS) کی غیر معمولی سرگرمی: یہ ہارمونل سسٹم جسم میں نمک، پانی اور خون کے دباؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
  • سیمپیٹھیٹک اعصابی نظام کی زیادہ سرگرمی (Sympathetic Overactivity): تناؤ، نیند کی کمی یا دیگر عوامل سے یہ نظام زیادہ متحرک ہو سکتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن تیز اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں۔
  • اینڈوتھیلیل Dysfunction: خون کی نالیوں کی اندرونی پرت (endothelium) صحیح طریقے سے کام نہیں کرتی، جس سے نالیاں پھیلنے کے بجائے سکڑتی ہیں۔
  • گردوں کا نمک اور پانی کے توازن میں خلل: گردے ضرورت سے زیادہ نمک اور پانی جسم میں جمع کر لیتے ہیں، جس سے خون کا حجم بڑھ جاتا ہے اور دباؤ بڑھتا ہے۔
  • ہارمونل تبدیلیاں: ایلسڈوسٹرون (aldosterone) وغیرہ کی زیادتی۔

2. ثانوی (Secondary) ہائی بلڈ پریشر (5-10% کیسز)

اس کی مخصوص وجوہات ہوتی ہیں، جیسے:

  • گردوں کی بیماریاں (مثلاً گردے کی شریان کا تنگ ہونا، chronic kidney disease)
  • اینڈوکرائن مسائل (جیسے تھائیرائیڈ، pheochromocytoma، Cushing’s syndrome)
  • نیند میں سانس رکنے کا عارضہ (Sleep Apnea)
  • بعض دوائیوں کا استعمال (جیسے NSAIDs، birth control pills)
  • شراب نوشی یا منشیات کا استعمال

حفاظتی عوامل

ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہے:

  • نمک کا استعمال کم کریں۔
  • پھل، سبزیاں اور سارا اناج کھائیں۔
  • باقاعدہ ورزش کریں۔
  • وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔
  • تناؤ کا انتظام کریں۔
  • شراب نوشی اور تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔