تحریر ڈاکٹر اشفاق الرحمن
ڈاکٹر فرڈیننڈ لوفلر ایک سوئس ماہر امراضِ قلب تھے جنہوں نے 1930 کی دہائی میں طب کی دنیا میں ایک اہم دریافت کی۔ اُن کی زندگی کا بیشتر حصہ طبی تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال میں گزرا۔ وہ اپنی گہری مشاہداتی صلاحیت اور مریضوں کی تفصیلات کو بغور مطالعہ کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔
ایک پُراسرار طبی مشاہدہ
اپنے کلینیکل کام کے دوران، ڈاکٹر لوفلر نے ایک دلچسپ طبی نمونہ محسوس کیا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ کچھ مریض جو ہلکی کھانسی، بخار یا سانس میں سیٹی کی آواز کی شکایت لے کر آتے تھے، اُن کے پھیپھڑوں کے ایکس رے پر عارضی دھندلے نشان نظر آتے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جب کچھ ہفتوں بعد یہی مریض دوبارہ چیک اپ کے لیے آتے یا اُن کا دوبارہ ایکس رے کیا جاتا، تو وہ نشان غائب ہو چکے ہوتے تھے اور مریض بہتر محسوس کر رہے ہوتے تھے۔ یہ عارضی کیفیت، جس میں مریض کے خون میں ایوسینو فلز (ایک قسم کے سفید خلیے) کی تعداد بھی بڑھی ہوئی ہوتی، ڈاکٹر لوفلر کے لیے ایک معمہ بن گئی۔
معمے کا حل: طفیلی کیڑے اور پھیپھڑے
اپنی دریافت کو آگے بڑھاتے ہوئے، ڈاکٹر لوفلر نے محتاط تحقیق اور مریضوں کی تاریخوں کا جائزہ لینے کے بعد اس کی ممکنہ وجہ کی طرف اشارہ کیا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ عارضی پھیپھڑوں کی سوجن دراصل آنتوں کے طفیلی کیڑوں، خاص طور پر گول کیڑے (Ascaris) کے خلاف جسمانی مدافعتی نظام کا ایک ردعمل ہے۔ اُن کی وضاحت یہ تھی کہ جب ان کیڑوں کے انڈے ہضم ہو کر لاروا (ننھے بچے) میں تبدیل ہوتے ہیں، تو اپنے قدرتی ارتقا کے لیے وہ پھیپھڑوں کے راستے سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ان غیر مہمانوں کو دیکھتے ہی انسانی جسم کا مدافعتی نظام ہلچل مچا دیتا ہے اور پھیپھڑوں کی بافتوں میں سوجن پیدا کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ ایکس رے پر دکھائی دینے والے عارضی سائے اور خون میں ایوسینو فلز کی کثرت کی شکل میں نکلتا ہے۔
لوفلر سنڈروم: تشخیص
یہ کیفیت، جو اب لوفلر سنڈروم کے نام سے جانی جاتی ہے، بنیادی طور پر ایک غیر مضر اور خود محدود ہونے والی حالت ہے۔ مریض میں علامات بہت ہلکی ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات کوئی واضح علامت ظاہر ہی نہیں ہوتی۔ تشخیص کے لیے ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ میں ایوسینو فلز کی بڑھی ہوئی تعداد دیکھتے ہیں، ایکس رے پر پھیپھڑوں میں منتقل ہونے والے عارضی دھندلے پن کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ممکنہ طور پر پاخانے کے نمونے میں طفیلیوں کے انڈے ڈھونڈتے ہیں۔
علاج اور بہتری
اس کیفیت کا انجام تقریباً ہمیشہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں، جیسے ہی طفیلیوں کے لاروا کا پھیپھڑوں سے گزرنا ختم ہوتا ہے، مدافعتی ردعمل خود بخود کم ہو جاتا ہے اور علامات اور ایکس رے کے سائے دونوں غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر طفیلی کی تصدیق ہو جائے تو اینٹی ہیلمنتھک ادویات دے کر انفیکشن ختم کیا جاتا ہے۔ اگر سوجن یا علامات زیادہ پریشان کن ہوں تو سٹیرائڈز کا مختصر کورس بہت تیزی سے راحت پہنچا سکتا ہے۔
ایک قیمتی سبق
ڈاکٹر لوفلر کی یہ دریافت دراصل انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی ایک دلچسپ اور عارضی زیادہ ردعمل کی واضح مثال ہے۔ اُن کی گہری نظر اور مریضوں کی صحت یابی کے نمونوں کو پہچاننے کی صلاحیت نے طب کے دائرے میں ایک ایسی حالت کی نشاندہی کی جو ابتدا میں پراسرار لگتی تھی، مگر جس کا سبب اور حل دونوں نسبتاً سادہ تھے۔ آج بھی، لوفلر سنڈروم ڈاکٹر لوفلر کی علمی میراث کے طور پر جانا جاتا ہے، جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کا محتاط مشاہدہ کبھی کبھار بڑی دریافتوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشسلسٹ تیمرگرہ



