وزن کم کرنا اور گھٹنوں کی تکلیف: وزن گھٹانے سے جوڑوں کو کیسے آرام ملتا ہے

ڈاکٹراشفاق الرحمٰن

اسسٹنٹ پروفیسر پلمونالوجی

وزن کم کرنے کا گھٹنوں کی تکلیف سے گہرا تعلق ہے۔ درج ذیل نکات میں اس ربط کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

1. میکانیکی دباؤ میں کمی

ہر اضافی کلو گرام وزن گھٹنوں پر تقریباً چار گنا زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔یعنی 5 کلو وزن کم کرنے سے گھٹنوں پر 20 کلو تک کے دباؤ میں کمی آتی ہے۔یہ کمی گھٹنے کے جوڑ کے کارٹیلیج (نرم ہڈی) کو ٹوٹنے پھوٹنے سے بچاتی ہے۔

2. سوزش میں کمی

زیادہ چربی والے خلیے (adipose tissue) سوزش پیدا کرنے والے کیمیکلز خارج کرتے ہیں۔وزن کم کرنے سے جسم میں سوزش کی سطح کم ہوتی ہے، جس سے گھٹنوں کا درد اور سوجن کم ہوتی ہے۔

3. گھٹنے کے جوڑ کی صحت میں بہتری

کم دباؤ سے گھٹنے کے جوڑ کے کارٹیلیج کی حفاظت ہوتی ہے آسٹیوآرتھرائٹس (گھٹنے کا جوڑوں کا درد) کی ترقی سست ہوتی ہے۔

4. حرکت میں آسانی

وزن کم ہونے سے روزمرہ کی حرکات (چلنا، سیڑھیاں چڑھنا) آسان ہوتی ہیں۔کم وزن ہونے سے ورزش کرنا آسان ہوتا ہے، جو گھٹنوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

5. سرجری کی ضرورت میں کمی

مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ وزن میں 10% کمی سے گھٹنے کی تبدیلی (کnee replacement) کی سرجری کی ضرورت کا خطرہ 50% تک کم ہو سکتا ہے۔

عملی تجاویز

  • تدریجی وزن میں کمی: ہفتے میں 0.5-1 کلو وزن کم کرنا صحت کے لیے بہتر ہے۔
  • کم اثر والی ورزشیں: تیراکی، سائیکلنگ، چہل قدمی گھٹنوں پر کم دباؤ ڈالتی ہیں۔
  • متوازن غذا: پروٹین، کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا جوڑوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
  • گھٹنوں کے شدید درد کی صورت میں فزیوتھیراپسٹ یا آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

وزن میں محض 5-10% کمی بھی گھٹنوں کی تکلیف میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے اور آپ کی روزمرہ زندگی کی معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن