یورک ایسڈ (Uric Acid) خون میں پورین (Purines) نامی مرکبات کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔ یہ پورین زیادہ تر کچھ خاص خوراکوں میں پائے جاتے ہیں۔ جب یہ زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہوتے ہیں تو یورک ایسڈ کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو آگے چل کر گاؤٹ (Gout) یا جوڑوں کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔
ذیل میں وہ خوراکیں دی گئی ہیں جو یورک ایسڈ بڑھانے کا سبب بنتی ہیں
گوشت اور پروٹین والی اشیاء
- لال گوشت (بیف، بکرے کا گوشت)
- آنٹھوں والا گوشت (جگر، گردے، دل)
- مرغی کی چربی اور جلد
- مچھلیاں جیسے سَرڈین، اینچووی، ہیرنگ، میکریل، ٹراؤٹ، ٹونا
- جھینگے اور دیگر سی فوڈ
پینے والی اشیاء
- بیئر اور شراب (الکحل) — خاص طور پر بیئر میں پورین زیادہ ہوتی ہے
- چینی والے مشروبات (سافٹ ڈرنکس، کولڈ ڈرنکس) جن میں ہائی فریکٹوز کارن سیرپ (High Fructose Corn Syrup) ہوتا ہے
کاربوہائیڈریٹ والی اشیاء
- سفید آٹا، میٹھے بسکٹ، کیک، پیٹیز
(یہ براہِ راست پورین نہیں رکھتے، مگر میٹابولزم کو متاثر کر کے یورک ایسڈ بڑھاتے ہیں)
دیگر اشیاء
- دالیں (خاص طور پر مسور، چنا، مٹر، لوبیا) — اعتدال میں کھائی جا سکتی ہیں
- پالک، مشروم، بند گوبھی، پھول گوبھی، asparagus (ان میں پورین کم ہے مگر حساس افراد میں فرق ڈال سکتی ہیں)
- چکن یخنی یا ہڈیوں کا سوپ – پورین کی زیادہ مقدار رکھتا ہے
احتیاطی مشورے
- پانی زیادہ پئیں (روزانہ کم از کم 8–10 گلاس) تاکہ یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے خارج ہو سکے۔
- وزن کنٹرول میں رکھیں۔
- دودھ، دہی، سبزیاں، پھل (خاص طور پر چیری، سیب، کیلا) مفید ہیں۔
- چائے اور کافی اعتدال میں پینا نقصان دہ نہیں، بلکہ کچھ ریسرچ کے مطابق کافی تھوڑا سا فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر اشفاق الرحمن



