سینے کے مریضوں کو عام دنوں میں بھی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آجکل جبکہ ہوا میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے تو ماسک کی ضرورت اور اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ عام کپڑے یا اسکارف سے منہ ڈھانپنے سے وہ تحفظ نہیں مل سکتی جو ماسک سے ملتی ہے۔ آئیے اس کو زرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماسک اور عام کپڑے (جیسے دوپٹہ یا اسکارف) میں بہت فرق ہے۔ عام کپڑا صرف آپ کے منہ کو ڈھانپتا ہے، جبکہ ماسک ایک انجینئرڈ پروڈکٹ ہے جو آپ کو جراثیم سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
دونوں میں ٹیکنیکل فرق کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
1. فیبرک کا معیار اور ساخت (Fabric Quality & Structure)
- عام کپڑا (دوپٹہ/اسکارف):
- یہ عام طور پر بُنا ہوا (Woven) ہوتا ہے، یعنی تانا اور بانا (Lengthwise اور Crosswise) دھاگے ایک دوسرے کے اوپر سے گزرتے ہیں۔
- اِس میں دھاگوں کے درمیان خالی جگہ (Pores) بہت بڑی ہوتی ہے، جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں، لیکن وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے گزر سکتے ہیں۔
- ہوا کا گزر: اِس میں ہوا بڑی آسانی سے گزر جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جراثیم بھی اُسی طرح گزر جائیں گے۔
- میڈیکل ماسک (Surgical Mask):
- یہ غیر بُنا ہوا (Non-woven) فیبرک ہوتا ہے۔
- یہ تھری ڈی پرت (3D Layer) کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں دھاگے نہیں ہوتے، بلکہ پلاسٹک (Polypropylene) کے ریشوں کو گرمی اور پریشر سے آپس میں جوش دے کر (Melt-blown technique) ایک بھول بھلیاں (Maze) جیسی ساخت بنائی جاتی ہے۔
- اِس میں ہوا کا گزر مشکل ہوتا ہے، لیکن ہوا کے ساتھ اُڑنے والے چھوٹے ذرات (Aerosols) اِس بھول بھلیاں میں پھنس جاتے ہیں۔
2. فلٹریشن (Filteration) کا عمل
یہ سب سے بڑا ٹیکنیکل فرق ہے:
- عام کپڑا:
- یہ صرف بڑے بوندوں (Droplets) کو روک سکتا ہے، جیسے چھینک میں منہ سے نکلنے والی بوندیں ۔
- یہ مکینیکل فلٹریشن (چھلنی کی طرح) کام کرتا ہے، یعنی ذرے کا سائز اگر کپڑے کے سوراخ سے بڑا ہے تو رک جائے گا، چھوٹا ہے تو نکل جائے گا۔
- میڈیکل ماسک:
- یہ تین طریقوں سے فلٹر کرتا ہے:
- انٹرسیپشن (Interception): جب ذرہ ہوا کے بہاؤ کی لکیر کی پیروی کرتا ہے اور ریشے سے ٹکرا کر چپک جاتا ہے۔
- امپیکشن (Impaction): بڑے ذرے جڑی ریشوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں۔
- ڈفیوژن (Diffusion): سب سے چھوٹے ذرات (وائرس) براؤنین موشن کی وجہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں اور ریشوں سے ٹکرا کر پھنس جاتے ہیں۔
- اِس میں الیکٹرو سٹیٹک چارج (Electrostatic Charge) بھی ہوتا ہے، جو چھوٹے ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر پھنسا لیتا ہے، جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ یہ خصوصیت عام کپڑے میں نہیں ہوتی۔
- یہ تین طریقوں سے فلٹر کرتا ہے:
3. ایئر فلو اور سانس لینے میں آسانی (Breathability)
- عام کپڑا: اِس میں ہوا بہت آسانی سے گزرتی ہے، اس لیے سانس لینے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، لیکن تحفظ بھی کم ہوتا ہے۔
- میڈیکل ماسک: یہ خاص طور پر ڈیفرینشل پریشر (Differential Pressure) کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ یعنی یہ اِتنے چھوٹے سوراخ بنائے جاتے ہیں کہ جراثیم تو رک جائیں، لیکن آپ کو سانس لینے میں دقت نہ ہو۔ یہ ایک بیلنس ہے۔
4. ہائیڈروفوبک پراپرٹی (پانی سے بچاؤ)
- عام کپڑا: سوتی کپڑا تو پانی جذب (Absorbent) کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گیلے ہو کر جراثیم کو گزرنے کا راستہ دے دیتا ہے۔
- میڈیکل ماسک: اِس کی بیرونی تہہ ہائیڈروفوبک (Hydrophobic) ہوتی ہے، یعنی اگر آپ پر کوئی بوند گرے تو وہ ماسک میں جذب نہیں ہوتی، بلکہ اوپر ہی پڑی رہتی ہے یا پھسل جاتی ہے۔
اگر آپ کو مکمل تحفظ چاہیے تو میڈیکل ماسک ہی استعمال کریں۔ لیکن اگر ماسک دستیاب نہ ہو تو تین تہوں والا کپڑے والا ماسک استعمال کریں، سادہ دوپٹہ یا اسکارف بہت کم تحفظ فراہم کرتا ہے۔



